PakWeb
  • Home
  • Pakistan
    • Business
    • Polls
    • Columns
    • Discussion Forums
    • Pakistan Prayer Times
    • Pakistani Baby Names
  • World
  • Mobiles
  • Tech
  • Entertainment
  • Sports
  • Health
  • Recipes
  • Quiz
  • Islam
Facebook Twitter Instagram YouTube
PakWeb
  • Home
  • Pakistan
    • Business
    • Polls
    • Columns
    • Discussion Forums
    • Pakistan Prayer Times
    • Pakistani Baby Names
  • World
  • Mobiles
  • Tech
  • Entertainment
  • Sports
  • Health
  • Recipes
  • Quiz
  • Islam
PakWeb
Home»Islam»Hagia Sophia: Objection and Answer
Islam

Hagia Sophia: Objection and Answer

Updated:25 February, 20226 Comments6 Mins Read
Facebook Twitter WhatsApp Telegram Pinterest Reddit Email
Hagia Sophia
Hagia Sophia
Facebook Twitter WhatsApp Pinterest Email

مسلمانوں کی کئی کوششوں اور حملوں کے بعد قسطنطنیہ کی فتح کا تاج سلطان محمد کے سر آیا اور پھر وہ تاریخ میں سلطان محمد فاتح کے نام سے امر ہوگئے۔ سلطان محمد فاتح 29 مئی 1453 کو قسطنطنیہ آئے اور یکم جون 1453 کو آپ نے مشہور عیسائی کلیسا ’’آئیا صوفیہ‘‘ میں نماز جمعہ ادا کی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے ساتھ ہی یہ قدیم عمارت کلیسا سے مسجد میں بدل گئی اور اس کی یہ حیثیت 1935 تک بطور مسجد ہی قائم رہی۔

اس کے بعد 1935 میں اسے ایک حکم نامے سے عجائب گھر میں بدل دیا گیا، جس کے بعد 2020 میں ترک صدر طیب اردوان نے ’کونسل آف اسٹیٹ‘ کے فیصلے سے عین آئینی طور پر آئیا صوفیہ کی مسجد کی حیثیت کو بحال کر دیا:

دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں

استنبول میں قائم آئیا صوفیہ کی مسجد کی حیثیت سے بحالی کے ساتھ ہی معاشرے کے ایک طبقے کی جانب سے اس پر کئی طرح سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں معروف قانون دان ڈاکٹر محمد مشتاق نے بہت دلیل سے ان بے بنیاد اعتراضات کو رد کیا ہے اور اب ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے قوم سے خطاب اور آئیا صوفیا کے بارے میں گفتگو کے بعد یہ بحث سمٹ جانی چاہیے۔

آئیا صوفیہ کو مشرقی عیسائیت میں وہی حیثیت حاصل تھی جو مغربی عیسائیت میں ویٹیکن سٹی کو حاصل ہے۔ اسے فتح کرنے کے بعد عثمانی خلافت میں یہاں پر مینارہ بھی بنایا گیا۔ 1453 میں جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو بطور فاتح کے اُن کے پاس یہ حق موجود تھا کہ وہ اپنے مفتوحہ علاقے میں جو چاہے کرتے۔ ظاہر ہے اُس وقت نیشن اسٹیٹ کا تصور نہیں تھا، کوئی بین الاقوامی قانون نہیں تھا، بس اخلاقیات کا تذکرہ تھا۔ اِس سے قبل جب ارطغرل اور عثمان کا دور تھا تو یہ عین وہی دور تھا جب منگول جس علاقے کو بھی فتح کرتے تو وہاں سروں کے مینار بناتے جاتے تھے۔ تاریخ میں تو یہ بھی آتا ہے کہ مفتوحہ علاقے میں اس قدر خونریزی ہوتی تھی کہ گھوڑے گھٹنوں تک خون میں دھنس جاتے اور مفتوحہ علاقوں کے گلی بازاروں میں سے گزرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی مفتوحہ علاقوں میں بادشاہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں، اس کا تذکرہ تاریخ کی کتب میں موجود ہے۔

سردست یہ اعتراض کہ سلطان محمد فاتح کو بعد از فتح آئیا صوفیہ کی حیثیت بدلنی نہیں چاہیے تھی، درست نہیں۔ اُس وقت کے مطابق انہیں مکمل حق حاصل تھا کہ وہ اپنے مفتوحہ علاقے میں جو چاہے وہ کرتے۔ آسان الفاظ میں سمجھ لیجیے کہ جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ اور آئیا صوفیا کو فتح کیا تھا تو اُس کو اپنے علاقے کے تمام مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے تھے، جبکہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سلطان محمد فاتح نے اس کا ناجائز فائدہ ہرگز نہیں اُٹھایا اور یہی وجہ ہے کہ آئیا صوفیا میں آج بھی عیسائیوں کی مذہبی علامات موجود ہیں۔

دوسری بات یہ کہ آئیا صوفیا کو ’گرجا گھر‘ سے مسجد میں تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ اسے ’عجائب گھر‘ سے مسجد میں واپس ’بحال‘ کیا گیا ہے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو مخالف کا پروپیگنڈہ توڑ دیتا ہے۔ پہلے جو 1453 میں ہوا، وہ اُس وقت کے قانون کے مطابق درست تھا۔ اس کے بعد مسجد کو عجائب گھر میں بدلنا ایک سنگین غلطی تھی، جس کا اعتراف خود اہل ترک کرتے ہیں۔ یہ کیوں ہوا؟ اس میں کمال پاشا کا کتنا عمل دخل تھا؟ اس میں اُس کے مشیران اور مصاحب کا کیا کردار تھا اور اِس میں کمال اتاترک کی کتنی رضامندی شامل تھی؟ یہ سب ایک الگ بحث کے متقاضی ہیں تاہم یہ ایک غلط فیصلہ تھا جسے ترکی نے اپنے عین آئین کے مطابق ٹھیک کرلیا ہے۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ یونیسکو نے اِسے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ لیکن کیا آئیا صوفیہ کو عالمی ورثہ قرار دینے سے اُس پر ترکی کا حق ختم ہو جاتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ اعتراض از خود ہی باطل ہو جاتا ہے۔ آئیا صوفیا ترکی کی ملکیت ہے اور وہ اِسے کسی بھی حیثیت میں استعمال کرنے میں بالکل آزاد ہے جبکہ اِس پر کسی بین الاقوامی، حتیٰ کہ خود ساختہ بین الاقوامی قانون کی بھی نفی نہیں ہوتی۔

اب آگے سنیے۔ حال ہی میں اسرائیل نے اپنے علاقے میں مساجد کو نائٹ کلبس میں تبدیل کیا ہے تو معترضین یہاں خاموش کیوں ہیں؟ ماضی میں ہماری اپنی بادشاہی مسجد میں گھوڑے اور گدھے باندھے گئے تھے۔ یہاں بھی اعتراض کرنے والے بالکل خاموش نظر آئیں گے۔ یورپ کی خوبصورت مساجد میں آج عیسائیوں نے گرجے تعمیر کیے ہوئے ہیں لیکن یہاں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تو پھر صرف آئیا صوفیا پر اعتراض کیوں، جسے عجائب گھر سے مسجد میں بدل دیا گیا ہے؟ کیا معترضین یہ جانتے ہیں کہ یورپ اور امریکا میں مسلمانوں نے گزشتہ صدی میں گرجا گھروں کو عیسائی حکومتوں سے خرید کر اُن کو مساجد میں بدلا ہے؟ اگر تو یہ اعتراض ہے کہ یہ گرجا گھر تھا اور سلطان محمد فاتح کو اس کو مسجد میں بدلنا نہیں چاہیے تھا تو پھر تو پورا استنبول ہی واپس کر دینا چاہیے کیونکہ وہ بھی فتح کیا گیا تھا۔

شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

ترک صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہم آئیا صوفیا کی تاریخی حیثیت کی حفاظت کریں گے، اسے عجائب گھر میں تبدیل کرنا ایک غلطی تھی اور ہم اس غلطی کو سدھار کر اس کی مسجد کی حیثیت کو بحال کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے کسی کو فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آئیا صوفیا نمازیوں اور سیاحوں کےلیے ہر وقت کھلی ہوگی جبکہ یہاں قائم عیسائیت کی نشانیوں کی ویسے ہی حفاظت کی جائے گی جیسا کہ 1453 سے اب تک کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہر خاص و عام کےلیے داخلہ بالکل مفت ہوگا۔

ترک صحافی فرقان حمید اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اردوان نے واضح کہا ہے کہ آئیا صوفیا ’’نہ تو ریاست کی ملکیت ہے اور نہ ہی کسی ادارے کی، بلکہ یہ فاتح فاؤنڈیشن کی ملکیت ہے، اس کی حیثیت کو فاؤنڈیشن کی مرضی کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے سلطان محمد فاتح کے اس پیغام سے بھی آگاہ کیا: ’’جو شخص بھی آیا صوفیہ کو مسجد کا روپ عطا کرنے والے ادارے (فاؤنڈیشن) کو تبدیل کرنے یا فاؤنڈیشن کی کسی شق کو کالعدم قرار دینے یا مختلف چالوں سے اس کی اصلی حالت کو تبدیل کرنے یا اس میں مددگار ہونے یا اسے مسجد کے علاوہ کوئی اور روپ دینے کی کوئی کوشش کرتا ہے تو میں سب پر واضح کردوں، وہ شخص حرام کا مرتکب ہوگا اور گناہ کبیرہ سرزد کرے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ، پیغمبروں، فرشتوں اور تمام مسلمانوں کی لعنت ہوگی۔ اللہ کا عذاب اس پر ہوگا۔‘‘

صدر اردوان نے کہا کہ آج اس فیصلے سے سلطان محمد فاتح کی بددعا سے ہم لوگ محفوظ ہوگئے ہیں۔

کیا اب بھی کسی کا اعتراض باقی ہے؟ (تحریر سالار سلیمان)۔

Hagia Sophia

Related Posts

Masoud Pezeshkian Wins Iranian Presidency, Promises Unity and Progress

Masoud Pezeshkian Wins Iranian Presidency, Promises Unity and Progress

Record-Breaking 4th of July Travel and Fireworks | 2024 Celebrations Soar

Record-Breaking 4th of July Travel and Fireworks | 2024 Celebrations Soar

UK General Election: Key Numbers, Candidates, and Predictions

UK General Election: Key Numbers, Candidates, and Predictions

6 Comments

  1. intelligent086 on 20 July, 2020 4:10 am

    [CENTER]@Saad Sheikh
    تاریخی حوالہ جات کی روشنی میں خوب صورت اور معلوماتی مضمون کا انتخاب
    جزاک اللہ خیراً کثیرا[/CENTER]

    Reply
  2. Maria-Noor on 20 July, 2020 5:37 pm

    اب ٹکٹ نہیں وضو کی ضرورت ہوگی

    Reply
  3. intelligent086 on 21 July, 2020 3:36 am

    ان شاءاللہ
    ماشاءاللہ
    🙂

    Reply
  4. Maria-Noor on 21 July, 2020 3:40 pm

    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    یاد ہے یہ آپ نے ہی لکھا تھا

    Reply
  5. intelligent086 on 22 July, 2020 1:29 am

    وہ یہاں نہیں کسی اور جگہ لکھا تھا

    Reply
  6. Veer on 22 July, 2020 6:54 pm

    ماشاءاللہ

    Reply

Leave A Reply Cancel Reply

China Unveils World's First 6G Chip, Beats US & Europe

China Unveils World’s First 6G Chip, Beats US & Europe

What is a Cusec? Understanding Pakistan's Flood Waters

What is a Cusec? Understanding Pakistan’s Flood Waters

Good News: Electricity Price Reduction Expected Soon

Good News: Electricity Price Reduction Expected Soon

Maryam Nawaz Surveys Ravi River Flood Situation by Boat

Maryam Nawaz Surveys Ravi River Flood Situation by Boat

Trivia Quizzes
Muharram Quiz 2020 Trivia Quizzes

Muharram Quiz #1 – Test Your Knowledge

6Updated:31 August, 20201 Min Read
Eid Ul Adha Quiz

Eid ul Adha Quiz #1 – Test Your Knowledge

Hajj Quiz The Pilgrimage

Hajj Quiz: The Pilgrimage

Coronavirus Quizz Covid-19 Quiz Pakistan Web

Covid-19 Quiz: How much do you know about the coronavirus?

© 2005–2026 PakWeb
  • 🌐 About Us – PakWeb Digital Publishing Network
  • Privacy Policy
  • Contact us

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.