PakWeb
  • Home
  • Pakistan
    • Business
    • Polls
    • Columns
    • Discussion Forums
    • Pakistan Prayer Times
    • Pakistani Baby Names
  • World
  • Mobiles
  • Tech
  • Entertainment
  • Sports
  • Health
  • Recipes
  • Quiz
  • Islam
Facebook Twitter Instagram YouTube
PakWeb
  • Home
  • Pakistan
    • Business
    • Polls
    • Columns
    • Discussion Forums
    • Pakistan Prayer Times
    • Pakistani Baby Names
  • World
  • Mobiles
  • Tech
  • Entertainment
  • Sports
  • Health
  • Recipes
  • Quiz
  • Islam
PakWeb
Home»Islam»Aya (Hagia) Sophia Masjid – All you need to know
Islam

Aya (Hagia) Sophia Masjid – All you need to know

Updated:20 July, 202029 Comments15 Mins Read
Facebook Twitter WhatsApp Telegram Pinterest Reddit Email
Aya Sofia Mosque
Aya Sofia Mosque
Facebook Twitter WhatsApp Pinterest Email

آیاصوفیا مسجد تحریر : محمد ندیم بھٹی
بازنطینی حکمران کی درخواست پر سلطان محمد دوئم نے آرائش و تزئین کے بعدگرجا گھر کو مسجد میں بدل دیا تھا۔ مبارک ناموں کی خطاطی سے مزئین اس عمارت میں80سال تک سیاح جوتوں سمیت داخل ہوتے رہے۔

۔85سال پرانے تشخص کی بحالی پر اعتراض کیوں؟

ترک عدالت نے قانون اور بازنطینی حکمرانوں کے ساتھ کئے گئے سلطان محمد کے معاہدے کی رو سے مسجد کی بحالی کا حکم دے دیا۔ صدر طیب اردگان عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لئے پہلے سے ہی آمادہ تھے، 10جولائی کو طیب اردگان کی ڈگری کے اجراء کے بعد تاریخی مسجد آیا صوفیا کا قدیم تشخص بحال کرتے ہوئے اسے عجائب خانہ سے دوبارہ مسجد میں بدلنے کا عمل جاری ہے۔ آرائش و تزئین کے بعد اسے نماز کے لئے کھول دیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ’’آیا صوفیا مسجد ‘‘میں سیاحوں کی آمد پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی ۔مخصوص اوقات کار میں سیاح آ سکیں گے‘‘۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’اب بیت المقدس کی آزادی کی کا وقت قریب آ گیا ہے‘‘۔ نوٹر ڈیم کیتھڈرل میں عبادت بھی ہوتی ہے اور سیاحوں کے لئے بھی کھلا ہے، یہی پوزیشن صوفیا مسجد کی بھی ہو گی ۔ عدالتی فیصلہ سنتے ہی متعدد افراد اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے مسجد پہنچ گئے تھے ،صدر ترکی طیب اردگان کے حکم پر 85برس بعد پہلی نماز 25 جولائی کو ادا کی جائے گی۔

استنبول کی شان اور ترک ثقافت کی پہچان مسجد ’’آیا صوفیا ‘‘(خدا کی حکمت )کئی سو برس پرانی ہے۔500 برس تک ترکی میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکانے کی بہترین جگہ تھی۔ 9 صدیوں تک ’’آیا صوفیا‘‘ کو دنیا کے ایک بڑے شاہی مرکز اور گرجا گھر کی کی حیثیت حاصل رہی ۔

مسجد بنانے کے مخالفین

مسجد کے کھلنے کا حکم جاری ہوتے ہی کئی ممالک میں کہرام مچا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے بھی مسجد کی بحالی قبول نہیں کی ۔یہ سب مسجد کی جگہ عجائب خانہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔روس اور امریکہ کے قدامت پرست صدر ترکی کے فیصلے کو قدامت پرست کہنے سے نہیں چوک رہے۔کیا کہنے ، جوخود قدامت پرست ہیں وہ بھی دوسروں پر قدامت پرستی کا لیبل لگا رہے ہیں۔زیادہ ارتعاش امریکہ اور روس میں پیدا ہو ا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ پومیو کا مخالفانہ بیان کوئی انوکھی بات نہیں، یہ روس کی کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے جو کسی مذہب کو نہیں مانتے وہاں سے قدامت پرستی کے حق میں آوز بلند ہونا عجیب سا لگا ہے۔ روسی سینٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین کونستاتن کوسا شیف نے انتباہ کیا کہ فیصلے پر انتہائی منفی ردعمل آ سکتا ہے۔ فرینکفرٹ میں قائم ’’عالمی کونسل برائے چرچز‘‘نے صدر کے نام لکھے گئے ایک خط میں اس فیصلے پر گہرے رنج وع غم اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔یونیسف نے بھیء ترکی کی انتطامیہ کو لکھے گئے ایک خط میں مسجد کی بحالی کو بنا سوچے سمجھ اٹھایا گیا فیصلہ قرار دیا ہے، عالمی عجائب گھر ہونے کے ناطے مسجد کی بحالی سے پہلے عالمی شخصیات سے بات چیت بھی ضروری تھی۔

یکطرفہ طور خود سے مسجد کی بحالی درست نہیں۔متحدہ عرب امارات نے بھی فیصلے کو سراہنے کی بجائے تبدیل کرنے کاذکر کیا ہے۔عالمی ثقافتی ورثہ کو مسجد میں بدلنے پر یورپی یونین بھی خوش نہیں۔یورپی یونین نے فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے عجائب گھر قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔قدامت پرست مسیحیوں کی عالمی تنظیم نے بھی ترکی کے صدر سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔بعض قدامت پرستوں کا کہنا ہے کہ ’’پرانے تشخص کی بحالی سے دنیاایک بارپھر مشرق اور مغرب میں بٹ جائے گی‘‘۔ کسی نے کہا کہ اس سے 30 کر وڑ قدامت پرستوں کے جذبات مجروح ہو گے‘‘۔ بھارت میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اس بھارت میں جہاں 80لاکھ کشمیریوں کو گھر سے باہر نکلنے اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ۔جس کے مرکزی شہر دلی میں اسلامی نام رکھنے پر 39افراد 23 فروری سے 26فروری تک خاک اور خون میں نہلا دیئے گئے۔

کیا پورا گرجا گھر مسجد میں بدلا گیا؟

ہرگز نہیں۔گرجا گھر میں سات اہم علوم کی تعلیم کے لئے عظیم الشان یونیورسٹی بنائی گئی تھی،لیکن یہ یونیورسٹی خستہ ہونے کے باعث بند کر دی گئی تھی ۔ سلطان نے نئی جگہ پر عالی شان یونیورسٹی قائم کی۔ ان کا تعمیراتی پلان منفرد تھا۔انہوں نے اس عمارت میں مسجد کے لئے بہت سی تعمیرات کیں،جن کا ذکر الگ بھی کیا گیا ہے۔ جبکہ ہسپتال، مدرسہ، سکول، لائبریری، باغ،مہمان خانہ، سرائے اور مقابرکے علاوہ دیگر تعمیرات بھی شامل تھیں۔ یہ سب سلطان کی حکمت علمی کا نتیجہ ہیں۔

شاہی مرکز ،گرجا گھر کی تعمیر کا آغاز

عوام رومیوں اور بازنطینیوں کی سیاسی پالیسیوں اشرافیہ کے گرد گھومتی تھیں،اسی لئے وہ مقبول حکومت قائم کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔532ء میں بادشاہ جسٹینین کی غیر مقبولیت کے بعد شہر بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے۔ جاتا ہے۔ ’’نکا‘‘ کے لغوی معنی ’’فتح‘‘ کے ہیں۔ عوام سے بچنے کے لئے انہوں نے مضبوط فصیلوں کی حامل بلند و بالا عمارت بنانے کاحکم دیا۔ورنہ عوام بادشاہ کو ان کے قلعے میں گھیر کے ہلاک کرنے کے درپے تھے ۔ عمارت کی جلد از تعمیر کی غرض سے انہوں نے Anthemius اور Isidoreنامی دو ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔اگرچہ ان کانام ماہرین تعمیرات کی کسی بھی فہرست میں نہیں ملتا لیکن دونوں نے بلووں سے بچانے کے لئے صرف 6برس کی مدت میں تین حفاظتی دیواروں والی بلند و بالا عمارت بنا لی۔مصنف Procopios لکھتا ہے کہ دونوں ماہرین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دوران تعمیر گنبد کئی بار گرا۔جسے متعدد بندوں کی مدد سے سہارا دیا گیا۔بدقسمتی سے عمارت کی چھت کچھ چند ہی برسوں بعد زمیں بوس ہوگئی۔ رہی سہی کسراوپر تلے آنے والے زلزلوں نے پوری کر دی تھی۔ 1261

ء میں اس عمارت پر بازنطینیوں نے اپنا قبضہ دوبارہ قائم کر لیا تھا لیکن اس دور میں اس کی حالت نہایت خستہ ہو گئی تھی۔ 1317ء میں بادشاہ اندرونی کس دوئم (Andronicus) نے عمارت کو سہارا دینے کے لئے اپنی آنجہانی شریک حیات ارنی (Irene) کی وراثت چار نئے گنبد بنانے کے لئے مخصوص کرنے کاحکم دیا۔1344ء میں آنے والا زلزلہ بھی کمزور عمارت سہ نہ سکی اور 19مئی 1346ء کو کئی حصے زمیں بوس ہو گئے۔بعد ازاں گرجا گھر کو 1354ء تک بند رکھا گیا۔ مرمت کے لئے Astrasاور Perlataجیسے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

آیا صوفیا میں تبدیلیاں

بازنطینی شہنشاہ جستینین (Justinian ) کے حکم پر اس عمارت کی تعمیر 537ء میں مکمل ہوئی۔ بازنطینی دور میں یہ عمارت حلف وفا داری اور بڑی عالم کی تقریبات سمیت خاص مذہبی رسومات کے لئے مخصوص تھی۔ 440ء تک یہاں عبادت بھی کی جاتی رہی اور شاہی حکمران جنگ و جدل کے فیصلے کرکے دنیا کی بربادی کا انتظام بھی کرتے رہے۔726ء میں بادشاہ Leo the Isaurian نے حکم جاری کیا کہ یہاں بازنطینی سلطنیت کی اینٹ سے انیٹ بجا دی جائے جو نشانی دکھائی دے ، اسے ملیا میٹ کر دیا جائے۔ شاہی فرمان جاری ہونے کی دیر تھی کہ آیا صوفیا میں بازنطینیوں کی ہر نشانی نیست و بابود کر دی گئی۔تمام مذہبی تصاویر اور مجسمے ہٹا دتوڑ دیئے گئے۔یہ کام مسلمانوں نے نہیں کیا، بادشاہ لیو کے حکم پر گرجا گھر سے تمام مذہبی علامتیں اور نشانیاں ہٹا دی گئیں۔بعد ازاں 5برس (797ء یا 802ء) دوبارہ بازنطینیوں نے راج کیا لیکن گرجا گھر کو بحال کرنے میں ناکام رہے۔بادشاہ Theophilus نے گرجا گھر کے جنوبی بیرونی دروازے پر قد آدم دروازے لگا کر بند کر دیا۔859اور 989میں آنے والوں زلزلوں مغربی گنبد کو شدید نقصان پہنچا،چنانچہ بادشاہ باسل اول نے آرمینیا سے دو مایہ ناز گرجا گھر (Ani اور Argina)کے معمار Trdat کی خدمامت حاصل کیں ،وہ اس کا تشخص کچھ حد تک بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
۔1096ء تا1271ء یورپی حملہ آوروں نے راج کیا۔ پرنسسز آف رسک کیوان (مشرقی سلا وک اور فینک عوام کی فیڈریشن) نے بھی خطے پر راج قائم کیا۔ یہ عمارت وینس کے حکمران Doges of Venice کے تسلط میں رہی ۔ 13.5 لاکھ کلومیٹر پر محیط ڈاجز آف وینس کی سلطنت 12 مئی 1797کو ملیا میٹ کر دی گئی۔ رومن Aachen بھی نے یہاں کچھ عرصہ حکومت کی۔ Aachen ، جرمنی اور بیلجئم کے سرحدی علاقے میں قائم سلطنت کو کہا جاتا تھا۔ کئی حملہ آور اسی راستے سے آتے رہے اسی نسبت سے انہیں سے ’’Bad Aachen‘‘بھی کہا جاتا ہے۔
گرجا گھر پر قبضے
مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس عمارت نے کئی رنگ روپ بدلے۔ آیا صوفیا 900برس گرجا گھر رہا لیکن کئی بار اجڑا۔ رومیوں اور بازنطینی آپس میں لڑتے رہے اور گرجا گھر کا تشخص بدلتے رہے ۔ موقع ملنے پر یونانیوں نے بھی گرجا گھر کی شکل بدل ڈالی۔آئیے دیکھتے ہیں،
۔537ء تا 1054ء : یہ بطور بازنطینی کرسچین گرجا گھر قائم رہا۔
۔1054ء تا 1204ء:یونانیوں نے قبضہ کرکے قدامت پرست کیتھڈرل بنا دیا۔
۔1204ء تا 1261ء :رومیوں نے قبضہ کر کے رومن کیتھولک چرچ میں تبدیل کر دیا۔دوسرے گروہوں کی تمام نشانیاں ایک بار پھر مٹا دی گئیں۔
۔1261ء تا 1453ء:اسے یونانی آرتھوڈکس میں بدل دیا گیا۔

کیا سلطان محمد فاتح تنہا تھے؟

اس سوال کا جواب کا مغربی مفکرین اور مورخین نے صاف لفظوں میں اثبات میں د یا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سلطان محمد فاتح نے کئی مرتبہ مغربی قوتوں کے ساتھ اتحاد قائم کئے ۔مغربی قوتوں میں سیاسی طاقتیں بھی شامل تھی ۔متعدد مسیحی مذہبی پیشوا بھی ان کے ساتھ تھے۔ مثلاََ آج جہاں رومانیہ واقع ہے، وہاں 1431ء میں ظالم ڈریکولہ Vlad the Impaler سوم کی حکومت قائم تھی۔ سلطان محمد فاتح نے عوام کو اس کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے اسی کے بھائی سے اتحاد قائم کیاتھا۔اسی طرح وہ یونانیوں اور رومیوں کو بھی ساتھ لے کر چلے۔ اسی لئے انہوں نے کسی ایک بھی گرجا گھرکو نقصان نہیں پہنچایا اور آیاصوفیا میں پناہ گزیںخواتین اور بچوں کو بھی عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔البتہ فتح کے پہلے روز منبر پر اذان کی آواز بلند ہو گئی تھی۔

مسجد مذہبی پیشوائوں کے کہنے پر بنائی گئی تھی

۔1453ء میں خلافت عثمانیہ کے سلطان محمد دوئم کو فاتح قسطنطنیہ بھی کہا جاتا ہے،ان کی فتوحات اس قدر تھیں کہ انہیں فاتح ان کے نام کا حصہ بن گیا تھا،فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد نے 1453ء میں رومیوں اور یونانیوں کو عبرت ناک شکست دینے کے بعد پورے علاقے کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔جس کے بعد29مئی 1453ء کو خستہ حالت میں یہ عمارت ان کی سلطنت کا حصہ بن گئی۔ شکست خوردہ بازنطینی حکمرانوں نے اس عمارت کے حسن کو برقرار رکھنے کی التجا کی جسے مسلمانوں نے مان لیا۔ صدر ترکی طیب اردگان نے اہل مغرب کو یاد دلایا کہ مسجد کی بحالی صرف عالم اسلام ہی کی خواہش نہ تھی بلکہ یہ بازنطینیوں اور خلافت عثمانیہ کے مابین ہونے والے معاہدے کی رو سے بھی یہ ضروری ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ ’ ’ بازنطینیوں اور خلافت عثمانیہ کے مابین ہونے والی ’’ڈیڈ‘‘ کے مطابق بھی اسے کسی عجائب گھر میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ معاہدے میں دونوں فریقین نے اسے مسجد بنانے پر اتفا ق کیا ہے۔اسے کوئی اور شکل دینا معاہدے کی خلاف ورزی ہے‘‘۔ دوسری طرف ترک ارکان پارلیمنٹ نے ایوان میں کھڑے ہو کر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا خیرمقدم کیا ۔اسے ترکی میں پرانی ثقافت کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک مغربی دستاویز میں لکھا ہے کہ ’’سلطان محمد فاتح مذہبی پیشوائوں کی مددسے آگے بڑھتے رہے، اور نئے روم ی بنیاد رکھنے کی جانب پیش رفت کر رہے تھے۔ قسطنطنیہ کے سلطان اور اوپر تلے بدلنے والے کئی پوپ بھی آپس میں سیاست کرتے رہے جس سے سلطان کو موقع مل گیا۔ سیاست کے جوڑ توڑ اور بنتے بگڑتے اتحادوں میں وینس کا کردار بھی کلیدی رہا۔ اٹلی کے حکمران کئی اہم شہروں (جیسا کہ فلورینس، وینس، نیپلز اور ریمینی) کا تبادلہ کرتے رہے ، لیکن ان تبدیلیوں کا فائدہ سلطان محمد کو پہنچا۔ جنوبی اٹلی میں ’’Otranto‘‘ نامی علاقے پر قبضہ ان کی آخری پیش قدمی تھی وہ اپنی سلطنت کو متحد اور منظم کئے بغیر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جس سے ترکی کی خلافت عثمانیہ کو زبردست دھچکا لگا۔

امریکہ میں ایک ہزار سے زائد ریڈیو سٹیشنز اور جرائد کو چلانے والے ادارے ’’ npr‘‘نے 10جولائی 2020کو لکھا، ’’Turkey Converts Istanbuls Iconic Hagia Sophia Back into A Mosque‘‘ یعنی ترکی نے مشہور زمانہ آیا صوفیا کو دوبارہ مسجد میں بدل دیا‘‘۔ دیگر کئی عالمی مضامین میں بھی یہی بتایا گیا ہے کہ ترکی میں آیا صوفیا کا اسلامی تشخص بحال کر دیا گیاہے۔’’نیو یورپ‘‘ میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق بازنطینی حکمران نے ہی اسے مسجد میں بدلنے کی التجا کی۔انہوں نے اصرار کیا کہ ’’آرائش و تزئین کے بعد اسے مسجد میں ڈھال دیا جائے‘‘۔

سلطان محمد دوئم سے رابطوں کی تصدیق کئی دیگر جرائد و مضامین سے بھی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں کیا گیا معاہدہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔سلطان محمد کی منشا یہ ہرگز نہ تھی، وہ شاہی محل اور شاہی خاندان کی عبادت گاہ کے طور پرہی اسے قائم و دائم رکھنا چاہتے تھے لیکن سابق حکمرانوں کی خواہش کے آگے سر جھکائے بنا نہ بنی۔ آخر کار انہوں نے چار میناروں کی تعمیر کے بعد اس شاہی محل نما عمارت کو مسجد میں بدل دیا۔ خلافت عثمانیہ کے پاس شاہی انجینئرز اور ماہرین تعمیرات کی کمی نہ تھی،سابق حکمران کے دل کی آواز کو سنتے ہوئے اسی وقت اسے مسجد میں ڈھالنے کا حکم دے دیا گیا۔

۔1453ء میں اسے مکمل طور پر مسجد کے قالب میں ڈھال دیا گیا اور یہاں اذان کی آواز گونجنے لگی۔مرکزی حصے میں قائم ہونے کی وجہ سے اسلامی پہچان بنانے والے آیا صوفیا کو منفرد حیثیت حاصل تھی۔نئی نسل میں اسلامی کی روح پھونکنے میں آیا صوفیاکو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کر دیئے گئے اور مصطفیٰ کمال اتاتاترک کی سربراہی میں روشن خیال حکومت برسراقتدارآ گئی۔کمال اتاترک نے 1935میں اولین حکم میں مسجد کا تشخص ختم کرتے ہوئے اس عظیم الشان عبادت گاہ کو عجائب گھر میں بدل دیا۔ کئی سو سال پرانی مسجد آیا صوفیا کو عجائب خانہ بنانے کی ڈگری جاری کر دی گئی ۔سیکولر وزارتی کونسل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ،’’ آیا صوفیا کی منفرد تاریخی اہمیت اور استنبول کے مرکز میں واقع ہونے کے پیش نظراسے عجائب گھر میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔یہ عجائب گھر پوری مشرقی دنیا کے سیاحوں کے لئے اہمیت کاحامل ہو گا جس سے اقوام عالم کو نئے علوم سے روشناس ہونے میں مدد ملے گی‘‘۔ (بحوالہ کتاب ’’آیا صوفیا،ہولی وزڈم،ماڈرن مونیومنٹ ‘‘ مصنف رابرٹ نیلسن) ۔دنیا کے اس حصے کو نئے علم سے روشناس کرانے کے نام پر عالم اسلام کوپرشکوہ عبادت گاہ سے محروم کر دیا گیا۔ قریب قریب دو صدیوں میں یہاں کروڑوں مسلمان اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوئے لیکن مصطفیٰ کمال نے جذبات کی پرواہ نہ کی۔ کیونکہ ہر سال لاکھوں افرد جوتوں سمیت اس پاک جگہ میں داخل ہوتے رہے۔شائد مغرب کی حمایت کا حصول ان کے پیش نظر ہو، ان کا خیال ہو گا کہ خلافت عثمانیہ کی پالیسیوں سے اختلاف کر کے ہی وہ مغرب کے ساتھ زندہ رہ سکتے تھے جیسے مغرب خوش ویسے ہی وہ بھی خوش۔ مصطفیٰ کمال اتاترک نے شکست خوردہ سابق حکمران کی خواہش کو بھی نظر انداز کر دیا جس میں انہوں نے خود اس جگہ پر مسجد بنانے کی درخواست کی تھی ۔ان کے فیصلے کے خلاف کسی غیر ملکی نے یہ نہیں کہا کہ ’’ جناب آ پ اسلامی تشخص کا خاتمہ کیوں کر رہے ہو‘‘۔ تاریخی حیثیت میں تبدیلی کی مخالفت کسی عالمی تنظیم یا ادارے نے نہیں کی ۔یہ الگ بات ہے کہ ترک عوام نے مصطفیٰ کمال اتاترک کا یہ فیصلہ کبھی تسلیم نہیں کیا۔

بناوٹ: گنبد اور مینار

مسجد کے 197فٹ بلند چارمینار اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ پنسل کی مانند بلند و بالا یہ چاروں مینار اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہیں ۔اتنے بلند ،پنسل سے مشابہہ مینار دنیا کے کسی اور حصے میں قائم نہیں ۔ 1974ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد بنایا گیا ’’اسلامی سمٹ مینار‘‘ بھی ا سی طرز پر بنایا گیا ہے۔ مرکزی گنبد کا قطر 102فٹ ہے۔ گنبد کی بناوٹ آسمان سے مشابہہ رکھی گئی ہے ۔گنبد دیکھ کر اندر سے ایسے لگتا ہے جیسے آسمان سر پر سایہ فگن ہو۔ آسمان سے مشابہہ رکھنے کے لئے چھت کئی حصے نیلے رنگ سے ڈھانپ دیئے گئے ۔کہیں کہیں زرد رنگ بھی نمایاں ہے۔مرکزی گنبد کے چاروں طرف 40 کھڑکیاں ہیں،جبکہ اندرونی حصے میں اسلامی خطاطی کے نمونے آویزاں ہیں،چھت کے اندرونی حصوں پر کی گئی پچی کاری کی اپنی ہی شان ہے۔ ہر نمازی کے دل و دماغ میں اللہ کی شان اوراس کی عظمت کی ہیبت بیٹھ جاتی ہے۔ خطاطی کے یہ تمام نمونے درجہ کمال پر ہیں، کسی بھی عالمی شاہکار سے کم نہیں۔ مسجد کے چاروں بنائے گئے چھوٹے گنبد اسے دیگر مساجد سے ممتاز حیثیت عطا کرتے ہیں۔ یہ خلافت عثمانیہ کے انجینئرز اور کاریگروں کی اعلیٰ کاوشوں کا نمونہ ہیں۔

بظاہریہ عجائب گھر تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے مبارک ناموں کی خطاطی اورحضرت محمد ﷺ کے نام مبارک اسے عجائب گھر سے کہیں زیادہ ممتاز اور اعلیٰ و ارفع مقام عطا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مصطفیٰ کمال کا فیصلہ ترک عوام نے کبھی قبول نہیں کیا ، وہ برسوں سے نماز پڑھنے کی جستجو کررہے ہیں ،مسجد کی بحالی کے لئے کئی مرتبہ قانونی اور عدالتی کارروائیاں کی گئیں لیکن عوام کی خواہش پوری نہ ہو سکی ۔آخری مقدمہ 16برس قبل دائر کیا گیا تھا، جس میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ ’’آیا صوفیا کی زمین دراصل سلطان محمد کی ملکیت تھی،اور انہوں نے ہی اسے مسجد میں تبدیل کیا تھا،کمال اتاترک سلطان کا فیصلہ تبدیل کرنے کا مجاز نہ تھے‘‘۔

Hagia Sophia

Related Posts

Swedish Govt Strongly Condemns Public Desecration of Holy Quran on Eid ul Adha

Swedish Govt Strongly Condemns Public Desecration of Holy Quran on Eid ul Adha

In Pictures: Massive Turnout at Mount Arafat for Hajj Pilgrimage Amidst Sweltering Heat

In Pictures: Massive Turnout at Mount Arafat for Hajj Pilgrimage Amidst Sweltering Heat

Hajj Sermon 2023: The Importance of Unity and Devotion for Muslims

Hajj Sermon 2023: Importance of Unity among Muslims and Avoiding Division

29 Comments

  1. Maria-Noor on 20 July, 2020 7:33 am

    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    🤔 پوری کتاب
    ابھی یہ نہیں پڑھا جانا پھر آتی ہوں

    Reply
  2. Masoom Dil on 20 July, 2020 1:10 pm

    👍
    Thanks for sharing ….
    کل ہی سٹوڈنٹ کو پڑھاتے ہوئے اس مسجد کے بارے میں پڑھا تھا۔۔۔۔

    Reply
  3. Maria-Noor on 20 July, 2020 5:23 pm

    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    ماشاءاللہ
    اسکی تاریخ تو کافی پرانی ہے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی اس کی مسجد کی صدیوں سالہ پرانی حثیت ختم کر دی گئی اور اب ان شاءاللہ 25 جولائی 2020 کو باقاعدہ طور پر بحثیت مسجد تا قیامت کے لئیے آغاز کر دیا جائے گا

    Reply
  4. Saad Sheikh on 20 July, 2020 5:25 pm

    انشاءاللہ

    Reply
  5. Maria-Noor on 20 July, 2020 5:34 pm

    [USER=1]@Saad Sheikh[/USER]
    ماشاءاللہ
    بہت عمدہ معلومات

    Reply
  6. intelligent086 on 21 July, 2020 3:38 am

    [QUOTE=”Masoom Dil, post: 502498, member: 26791″]
    👍
    Thanks for sharing ….
    کل ہی سٹوڈنٹ کو پڑھاتے ہوئے اس مسجد کے بارے میں پڑھا تھا۔۔۔۔
    [/QUOTE]
    ماشاءاللہ
    بہت اچھے
    🙂

    Reply
  7. intelligent086 on 21 July, 2020 3:41 am

    [QUOTE=”Maria-Noor, post: 502503, member: 49959″]
    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    ماشاءاللہ
    اسکی تاریخ تو کافی پرانی ہے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی اس کی مسجد کی صدیوں سالہ پرانی حثیت ختم کر دی گئی اور اب ان شاءاللہ 25 جولائی 2020 کو باقاعدہ طور پر بحثیت مسجد تا قیامت کے لئیے آغاز کر دیا جائے گا
    [/QUOTE]
    ان شاءاللہ
    قابل داد
    بڑی دلچسپی اور دھیان سے پڑھ کر جواب دیا ہے

    Reply
  8. intelligent086 on 21 July, 2020 3:43 am

    [USER=49959]@Maria-Noor[/USER]

    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

    Reply
  9. Maria-Noor on 21 July, 2020 3:38 pm

    [QUOTE=”intelligent086, post: 502565, member: 32637″]
    ان شاءاللہ
    قابل داد
    بڑی دلچسپی اور دھیان سے پڑھ کر جواب دیا ہے
    [/QUOTE]
    😍

    Reply
  10. Maria-Noor on 21 July, 2020 3:39 pm

    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا

    Reply
  11. intelligent086 on 22 July, 2020 1:30 am

    [USER=49959]@Maria-Noor[/USER],
    ماشاءاللہ
    🙂

    Reply
  12. Danish Arain on 22 July, 2020 11:30 pm

    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    ماشاءاللہ
    بہت عمدہ

    Reply
  13. intelligent086 on 23 July, 2020 1:19 am

    [QUOTE=”Danish Arain, post: 502730, member: 50142″]
    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    ماشاءاللہ
    بہت عمدہ
    [/QUOTE]
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

    Reply
  14. Danish Arain on 24 July, 2020 3:59 pm

    مجھے سیر و سفر کی غرض سے دنیا کے بہت سے ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے مگر ترکی پہنچ کر میں جتنا ”ایٹ ہوم‘‘ محسوس کرتا ہوں دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں کرتا۔ کئی برس پہلے جب میں پہلی مرتبہ ترکی ”سیاحت و صحافت‘‘ کے لیے بیگم کے ساتھ گیا تو ہم نے آٹھ دس روز ترکوں کی مہمان نوازی کا لطف بھی اٹھایا اور کرائے کی گاڑی کو خود ڈرائیو کر کے صرف استنبول ہی نہیں‘ انقرہ تک کی سیاحت بھی کی۔ تب استنبول میں دو تین روز گزار کر ہمارا پہلا تاثر بہت دلچسپ تھا جسے میں نے اپنے سفرنامے ”کنارے کنارے‘‘ میں لکھا تھا۔ استنبول فی الواقع مشرق و مغرب کا سنگم ہے۔ یہاں اکل مشرقی اور شرب مغربی ہے‘ آواز مشرقی اور ساز مغربی ہے‘ اطوار مشرقی اور انداز مغربی ہے‘ چال مشرقی اور ڈھال مغربی ہے‘ زبان مشرقی اور لہجہ مغربی ہے اور سکارف مشرقی اور لباس مغربی ہے۔ غرضیکہ یہاں قدم قدم پر مشرق و مغرب گلے ملتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
    اس وقت آیا صوفیہ کو بچشم ِخود دیکھ کر جو میرا احساس تھا اسے میں نے اپنی ڈائری میں یوں قلم بند کیا تھا – مسجد سلطان احمد کے عین سامنے ”آیا صوفیہ‘‘ ہے۔ یہ ایک عظیم عمارت ہے۔ ایسی بارعب عمارت کہ جسے دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اس عمارت کو بعض مصنفین و مورخین نے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہاں بازنطینی عیسائی حکمرانوں نے کلیسا تعمیر کیا تھا۔ یہ کلیسا معبد کم اور بازنطینی سلطنت کا مرکز زیادہ سمجھا جاتا تھا۔ کلیسا کو سلطان محمد فاتح نے ترمیم و اضافہ کر کے 1453 میں فتح استنبول کی یاد میں مسجد بنا دیا۔ اس مسجد سے تقریباً پانچ صدیوں تک دن میں پانچ مرتبہ اذان بلند ہوتی رہی۔ 16ویں صدی عیسوی میں ایک ترک ماہرِ تعمیرات سنان اعظم نے مسجد میں تزئین و تجمیل کا کام نہایت عمدگی سے انجام دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید ترکی کے بانی اتاترک نے 1934 میں مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر دیا اور یہاں ربِّ ذوالجلال کے حضور جبینِ نیاز جھکانے پر پابندی عائد کر دی۔ جب پندرہ بیس برس قبل ہم آیا صوفیہ گئے تو ایک طرف اللہ‘ رسولؐ‘ چاروں خلفاؓء اور امام حسنؓ و امام حسینؓ کے نام دیواروں پر نظر آتے تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ ٹائیلوں سے بنی ہوئی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی تصویریں اور مجسمے دکھائی دیئے تھے۔ ہم اس وقت کوئی بہت زیادہ دقیق تحقیق نہیں کر سکے تاہم سرسری مطالعے سے جو معلومات حاصل ہوئیں اُن کے مطابق 1924 میں برسراقتدار آکر کمال اتاترک نے 1930 میں مسجد کو مقفل کرا دیا اور اس دوران نہایت کوشش کے ساتھ مسیحی تصاویر اور آثار کو نمایاں کروایا گیا جو پلستر اور پینٹ کے نیچے چھپ گئے تھے۔
    اب 86 برس کے بعد 10 جولائی بروز جمعتہ المبارک ایک ترک عدالت کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسی روز میوزیم کے ٹائٹل کو بدل کر اسے ایک بار پھر مسجد میں بدل دینے کے صدارتی احکامات جاری کر دیئے ۔ اس اعلان پر ترکوں کی اکثریت نے سجدئہ شکر بھی ادا کیا اور علی الاعلان ترکی میں جشن بھی منایا۔ اسی طرح اکثر اسلامی ممالک میں بھی مسجد کی واپسی پر مسرت و بہجت کا اظہار کیا گیا ہے۔ جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے تو وہاں کے کئی اداروں اور شخصیات کی طرف سے اس عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وہاں کے چرچ لیڈرز نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیسکو کے تحت ایک میوزیم کے عالمی ورثے کی مسجد میں تبدیلی بالکل مناسب نہیں۔ امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مقام بازنطینی عیسائیوں اور سلطنت عثمانیہ کا یادگار ورثہ ہے۔ دنیا بھر سے ترکی آنے والے اکثر سیاح آیا صوفیہ ضرور وزٹ کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ویٹی کن سٹی سے پوپ فرانسس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے سے انہیں بہت دکھ پہنچا ہے۔ پوپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ اپنا دکھ درد ترک حکمرانوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یونان آیا صوفیہ کا خود کو وارث سمجھتا ہے۔ یونان کے آرتھوڈکس چرچ کے آرچ بشپ اور یونانی کلچرل وزیر نے بھی اس فیصلہ پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے ”مہذب دنیا‘‘ کو طیش دلانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔ یونان کے وزیراعظم نے ترکی کے فیصلے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ترکی اور یونان کے تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ ترکی اور یورپین یونین‘ یونیسکو اور عالمی کمیونٹی کے درمیان بھی تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے اس لیے ترکی کو چاہئے کہ وہ میوزیم کو بحال رہنے دے۔ روس کے آرتھوڈکس چرچ نے بھی اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تقریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے 30 کروڑ آرتھوڈکس عیسائیوں کے روحانی سربراہ بارتھالومیو نے کہا کہ مسیحی دنیا کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔
    اردگان نے واضح کیا کہ ہم اپنی خودمختاری پر کسی طرح کا کمپرومائز کرنے پر تیار نہیں۔ اردگان نے کہا کہ جو اپنے ملکوں میں اسلاموفوبیا کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے وہ ترکی کو اس کی مذہبی خودمختاری سے محروم کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
    مجھے اس معاملے کی شرعی و فقہی حیثیت کا مکمل ادراک نہیں تاہم میں نے بعض علمائے کرام کی آراء معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترک عدالت کے سامنے سوال صرف اتنا تھا کہ کیا کمال اتاترک کو ملکیت رکھنے والی ایک آباد مسجد کو میوزیم میں بدل دینے کا اختیار تھا یا نہیں؟ عدالت نے کئی سال کی تحقیق و تفتیش کے بعد یہ فیصلہ دیا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا ہرگز اختیار نہیں تھا اس لیے میوزیم سے مسجد واگزار کرائی جائے۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ 900 برس تک استنبول میں قائم رہنے والے کلیسا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حق سلطان محمد فاتح کو حاصل تھا یا نہیں۔ کتب فقہ میں موجود مفصل بحثوں کا خلاصہ میں یہ سمجھا ہوں کہ فتح ہونے والے علاقوں میں اسلامی ریاست پر صلح کے ذریعے طے شدہ شرائط کی پابندی لازم ہوتی ہے جیسے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب کے دورِ خلافت میں صلح سے فتح ہونے والے بیت المقدس میں مسیحیوں کے مقاماتِ مقدسہ کو برقرار رکھا گیا۔ بزورِ قوت فتح ہونے والے ممالک کے بارے میں فقہا کی ملی جلی آراء ہیں۔ بعض کے نزدیک مفتوح قوم کی تمام عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رکھا جائے اور بعض کے خیال میں مسلمان فاتح کو اُن پر تصرف کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ بعض علماء کی رائے میں بزورِ شمشیر فتح ہونے والے ممالک میں مفتوح قوم کی عبادت گاہوں کا برقرار رکھا جانا تالیف قلب کے طور پر افضل ہے۔ جیسا کہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے اہلِ خیبر کے ساتھ معاملہ کیا تھا اور خلفائے راشدین نے اپنے مفتوحہ ممالک میں کیا تھا۔
    دیکھنا یہ ہے کہ کیا مسجد آیا صوفیہ کی تقریباً پانچ سو سالہ تاریخ میں عیسائیوں نے سلطنت ِعثمانیہ کی کسی عدالت سے اپنا کلیسا واگزار کرانے کی درخواست کی تھی یا نہیں۔ اگر آج 1500 برس کے بعد ترکی کی عدالت میں کلیسا کی واپسی کے لیے درخواست دائر کی جاتی ہے تو اس کا فیصلہ کیا ہو گا؟ جناب طیب اردگان سے یہ بیان بھی منسوب ہے کہ انہوں نے کہا کہ پندرہ سو سال پرانا آیا صوفیہ مسلمانوں‘ عیسائیوں اور ٹورسٹوں کے لیے کھلا رہے گا۔ اسلام کی عالی ظرفی اور تالیف قلبی سے کام لیتے ہوئے اگر طیب اردگان آیا صوفیہ کا ایک حصہ عیسائیوں کی عبادت گاہ کے طور پر مختص کر دیں تو اس سے ایک تو عالمی شوروغوغا اور تنقید کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ نیز غیرمسلم ممالک میں مساجد اور اسلامی مراکز اور اس سے بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی تقویت ملے گی۔ اور مسلمان مغربی دنیا میں ہر طرح کے معاندانہ رویے سے محفوظ رہیں گے۔
    بشکریہ
    آیہ صوفیہ : میوزیم سے مسجد تک
    ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

    Reply
  15. intelligent086 on 25 July, 2020 1:59 am

    [QUOTE=”Danish Arain, post: 503030, member: 50142″]
    مجھے سیر و سفر کی غرض سے دنیا کے بہت سے ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے مگر ترکی پہنچ کر میں جتنا ”ایٹ ہوم‘‘ محسوس کرتا ہوں دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں کرتا۔ کئی برس پہلے جب میں پہلی مرتبہ ترکی ”سیاحت و صحافت‘‘ کے لیے بیگم کے ساتھ گیا تو ہم نے آٹھ دس روز ترکوں کی مہمان نوازی کا لطف بھی اٹھایا اور کرائے کی گاڑی کو خود ڈرائیو کر کے صرف استنبول ہی نہیں‘ انقرہ تک کی سیاحت بھی کی۔ تب استنبول میں دو تین روز گزار کر ہمارا پہلا تاثر بہت دلچسپ تھا جسے میں نے اپنے سفرنامے ”کنارے کنارے‘‘ میں لکھا تھا۔ استنبول فی الواقع مشرق و مغرب کا سنگم ہے۔ یہاں اکل مشرقی اور شرب مغربی ہے‘ آواز مشرقی اور ساز مغربی ہے‘ اطوار مشرقی اور انداز مغربی ہے‘ چال مشرقی اور ڈھال مغربی ہے‘ زبان مشرقی اور لہجہ مغربی ہے اور سکارف مشرقی اور لباس مغربی ہے۔ غرضیکہ یہاں قدم قدم پر مشرق و مغرب گلے ملتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
    اس وقت آیا صوفیہ کو بچشم ِخود دیکھ کر جو میرا احساس تھا اسے میں نے اپنی ڈائری میں یوں قلم بند کیا تھا – مسجد سلطان احمد کے عین سامنے ”آیا صوفیہ‘‘ ہے۔ یہ ایک عظیم عمارت ہے۔ ایسی بارعب عمارت کہ جسے دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اس عمارت کو بعض مصنفین و مورخین نے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہاں بازنطینی عیسائی حکمرانوں نے کلیسا تعمیر کیا تھا۔ یہ کلیسا معبد کم اور بازنطینی سلطنت کا مرکز زیادہ سمجھا جاتا تھا۔ کلیسا کو سلطان محمد فاتح نے ترمیم و اضافہ کر کے 1453 میں فتح استنبول کی یاد میں مسجد بنا دیا۔ اس مسجد سے تقریباً پانچ صدیوں تک دن میں پانچ مرتبہ اذان بلند ہوتی رہی۔ 16ویں صدی عیسوی میں ایک ترک ماہرِ تعمیرات سنان اعظم نے مسجد میں تزئین و تجمیل کا کام نہایت عمدگی سے انجام دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید ترکی کے بانی اتاترک نے 1934 میں مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر دیا اور یہاں ربِّ ذوالجلال کے حضور جبینِ نیاز جھکانے پر پابندی عائد کر دی۔ جب پندرہ بیس برس قبل ہم آیا صوفیہ گئے تو ایک طرف اللہ‘ رسولؐ‘ چاروں خلفاؓء اور امام حسنؓ و امام حسینؓ کے نام دیواروں پر نظر آتے تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ ٹائیلوں سے بنی ہوئی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی تصویریں اور مجسمے دکھائی دیئے تھے۔ ہم اس وقت کوئی بہت زیادہ دقیق تحقیق نہیں کر سکے تاہم سرسری مطالعے سے جو معلومات حاصل ہوئیں اُن کے مطابق 1924 میں برسراقتدار آکر کمال اتاترک نے 1930 میں مسجد کو مقفل کرا دیا اور اس دوران نہایت کوشش کے ساتھ مسیحی تصاویر اور آثار کو نمایاں کروایا گیا جو پلستر اور پینٹ کے نیچے چھپ گئے تھے۔
    اب 86 برس کے بعد 10 جولائی بروز جمعتہ المبارک ایک ترک عدالت کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسی روز میوزیم کے ٹائٹل کو بدل کر اسے ایک بار پھر مسجد میں بدل دینے کے صدارتی احکامات جاری کر دیئے ۔ اس اعلان پر ترکوں کی اکثریت نے سجدئہ شکر بھی ادا کیا اور علی الاعلان ترکی میں جشن بھی منایا۔ اسی طرح اکثر اسلامی ممالک میں بھی مسجد کی واپسی پر مسرت و بہجت کا اظہار کیا گیا ہے۔ جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے تو وہاں کے کئی اداروں اور شخصیات کی طرف سے اس عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وہاں کے چرچ لیڈرز نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیسکو کے تحت ایک میوزیم کے عالمی ورثے کی مسجد میں تبدیلی بالکل مناسب نہیں۔ امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مقام بازنطینی عیسائیوں اور سلطنت عثمانیہ کا یادگار ورثہ ہے۔ دنیا بھر سے ترکی آنے والے اکثر سیاح آیا صوفیہ ضرور وزٹ کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ویٹی کن سٹی سے پوپ فرانسس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے سے انہیں بہت دکھ پہنچا ہے۔ پوپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ اپنا دکھ درد ترک حکمرانوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یونان آیا صوفیہ کا خود کو وارث سمجھتا ہے۔ یونان کے آرتھوڈکس چرچ کے آرچ بشپ اور یونانی کلچرل وزیر نے بھی اس فیصلہ پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے ”مہذب دنیا‘‘ کو طیش دلانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔ یونان کے وزیراعظم نے ترکی کے فیصلے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ترکی اور یونان کے تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ ترکی اور یورپین یونین‘ یونیسکو اور عالمی کمیونٹی کے درمیان بھی تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے اس لیے ترکی کو چاہئے کہ وہ میوزیم کو بحال رہنے دے۔ روس کے آرتھوڈکس چرچ نے بھی اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تقریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے 30 کروڑ آرتھوڈکس عیسائیوں کے روحانی سربراہ بارتھالومیو نے کہا کہ مسیحی دنیا کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔
    اردگان نے واضح کیا کہ ہم اپنی خودمختاری پر کسی طرح کا کمپرومائز کرنے پر تیار نہیں۔ اردگان نے کہا کہ جو اپنے ملکوں میں اسلاموفوبیا کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے وہ ترکی کو اس کی مذہبی خودمختاری سے محروم کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
    مجھے اس معاملے کی شرعی و فقہی حیثیت کا مکمل ادراک نہیں تاہم میں نے بعض علمائے کرام کی آراء معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترک عدالت کے سامنے سوال صرف اتنا تھا کہ کیا کمال اتاترک کو ملکیت رکھنے والی ایک آباد مسجد کو میوزیم میں بدل دینے کا اختیار تھا یا نہیں؟ عدالت نے کئی سال کی تحقیق و تفتیش کے بعد یہ فیصلہ دیا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا ہرگز اختیار نہیں تھا اس لیے میوزیم سے مسجد واگزار کرائی جائے۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ 900 برس تک استنبول میں قائم رہنے والے کلیسا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حق سلطان محمد فاتح کو حاصل تھا یا نہیں۔ کتب فقہ میں موجود مفصل بحثوں کا خلاصہ میں یہ سمجھا ہوں کہ فتح ہونے والے علاقوں میں اسلامی ریاست پر صلح کے ذریعے طے شدہ شرائط کی پابندی لازم ہوتی ہے جیسے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب کے دورِ خلافت میں صلح سے فتح ہونے والے بیت المقدس میں مسیحیوں کے مقاماتِ مقدسہ کو برقرار رکھا گیا۔ بزورِ قوت فتح ہونے والے ممالک کے بارے میں فقہا کی ملی جلی آراء ہیں۔ بعض کے نزدیک مفتوح قوم کی تمام عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رکھا جائے اور بعض کے خیال میں مسلمان فاتح کو اُن پر تصرف کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ بعض علماء کی رائے میں بزورِ شمشیر فتح ہونے والے ممالک میں مفتوح قوم کی عبادت گاہوں کا برقرار رکھا جانا تالیف قلب کے طور پر افضل ہے۔ جیسا کہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے اہلِ خیبر کے ساتھ معاملہ کیا تھا اور خلفائے راشدین نے اپنے مفتوحہ ممالک میں کیا تھا۔
    دیکھنا یہ ہے کہ کیا مسجد آیا صوفیہ کی تقریباً پانچ سو سالہ تاریخ میں عیسائیوں نے سلطنت ِعثمانیہ کی کسی عدالت سے اپنا کلیسا واگزار کرانے کی درخواست کی تھی یا نہیں۔ اگر آج 1500 برس کے بعد ترکی کی عدالت میں کلیسا کی واپسی کے لیے درخواست دائر کی جاتی ہے تو اس کا فیصلہ کیا ہو گا؟ جناب طیب اردگان سے یہ بیان بھی منسوب ہے کہ انہوں نے کہا کہ پندرہ سو سال پرانا آیا صوفیہ مسلمانوں‘ عیسائیوں اور ٹورسٹوں کے لیے کھلا رہے گا۔ اسلام کی عالی ظرفی اور تالیف قلبی سے کام لیتے ہوئے اگر طیب اردگان آیا صوفیہ کا ایک حصہ عیسائیوں کی عبادت گاہ کے طور پر مختص کر دیں تو اس سے ایک تو عالمی شوروغوغا اور تنقید کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ نیز غیرمسلم ممالک میں مساجد اور اسلامی مراکز اور اس سے بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی تقویت ملے گی۔ اور مسلمان مغربی دنیا میں ہر طرح کے معاندانہ رویے سے محفوظ رہیں گے۔
    بشکریہ
    آیہ صوفیہ : میوزیم سے مسجد تک
    ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
    [/QUOTE]
    خوب صورت اضافے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

    Reply
  16. Danish Arain on 29 July, 2020 12:31 am

    [QUOTE=”intelligent086, post: 503105, member: 32637″]
    خوب صورت اضافے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    [/QUOTE]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا

    Reply
  17. intelligent086 on 29 July, 2020 2:00 am

    [QUOTE=”Danish Arain, post: 503282, member: 50142″]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
    [/QUOTE]

    ماشاءاللہ
    🙂

    Reply
  18. intelligent086 on 31 July, 2020 4:04 am

    [CENTER]یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

    محمد عمرین محفوظ رحمانی

    مشرق و مغرب اور شمال وجنوب میں مسائل سے گھری ہوئی اور پریشانیوں اورکلفتوں سے ڈھکی ہوئی ملت اسلامیہ کے لیے 24 جولائی کی تاریخ اور جمعہ کا دن پیامِ مسرت لے کر آیا۔ مسجد آیا صوفیہ میں86 برس کے بعد پہلا جمعہ لاکھوں افراد کی موجودگی میں ادا کیا گیا۔ سورہ فتح کی پُراثر، بامعنی اور روح پرور آیات کے جلو میں ترک قوم نے اللہ پاک کی کبریائی اور عظمت بیان کی اور سپر پاور طاقتوں سمیت دنیا کے تمام ملکوں اور قوموں کو یہ پیغام دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں‘ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور یہ کہ غلبہ تو بس اللہ‘ اس کے پیغمبر اور اہل ایمان کے لیے ہے۔جمعہ کی نماز مسجد آیا صوفیہ میں ادا کی جا رہی تھی لیکن ساری دنیا کے مسلمان ان روح پرور مناظر کو موبائل یا کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھ کر دنیا کے کونے کونے میں مسرورہو رہے تھے۔ آیا صوفیہ جو کسی زمانے میں چرچ تھا‘ کو 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد مسجد میں تبدیل کر دیا۔ پھر منظر بدلا، غیروں کی دشمنی اور اپنوں کی بے وفائی نے تین براعظموں پر پھیلی سلطنت عثمانیہ کا تخت پلٹ دیا اور 24 جولائی 1923ء کو معاہدۂ لوزان کے تحت ترکی کوخلافت عثمانیہ کے مرکز سے بدل کر جمہوریہ ترکی بنا دیا گیا اور ایسے لوگ اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے یا بٹھا دیے گئے جن کے ضمیر و خمیر میں آزاد خیالی بھری ہوئی تھی۔ اس تبدیلی نے پورے ملک کا نقشہ بدل دیا، اسی دور میں آیا صوفیہ کی مسجدیت کو ختم کیا گیا اور اسے میوزیم کی شکل دے دی گئی۔ دن گزرتے گئے، سال بیتتے گئے اور آیا صوفیہ کے در و دیوار سجدوں کے لیے ترستے رہے۔

    وہاں کی فضائیں حسنِ منظر کے باوجود اداس رہیں کہ نہ اذان کی گونج تھی اور نہ بے خودی کے قیام و قعود، رکوع و سجود۔ پھر اللہ کی رحمت جوش میں آئی جس کی شان مردہ زمین کو بارش کے ذریعے زندگی بخشنا اور مرجھائے ہوئے پودوں کو تازگی عطاکرنا ہے، وہی ترکی جہاں مذہب کو اس کی بنیادوں سمیت اکھاڑ پھینکنے کی محنت زور و شور کے ساتھ کی گئی تھی، اسلام کی طرف لوٹنے لگا۔ آزاد خیالی اور لبرلزم کے ملمع شدہ چہرے سے آب و رنگ اترنے لگا، لوگوں نے محسوس کیا کہ جسے وہ محبوب دل نواز اور بت طنّاز خیال کیے ہوئے تھے اور اس کاحسن و جمال اصلی نہیں جعلی ہے۔

    درد مندانِ ملّت کی زیر زمین محنت، اللہ اللہ کرنے والوں کے گرم آنسو اورگریۂ شبانہ نے ترکی کے تخت اقتدار تک ان لوگوں کو پہنچایا جو سوز دروں اور جذب اندروں کے حامل تھے، جن میں چیتے کا جگر اور شاہین کی بلند پروازی تھی، جن کی آنکھوں میں حیا کا سرمایہ، دل میں غیرت کا خزانہ اور لبوں پر عظمت دین کا ترانہ تھا، یہ لوگ بڑھے تو بڑھتے چلے گئے، انصاف نے انہیں اوپر اٹھایا، علم نے انہیں عظمت بخشی، روحانیت نے ان کے قدم جمائے، غیرت نے انہیں سہارا دیا، اور سب سے بڑھ کر مالک و مختارِ کُل نے انہیں حسن نیت اور حسن عمل کی جزا نصیب کی اور دنیا نے ایک مرتبہ پھراس ازلی و ابدی قانونِ قدرت کو چشم سر سے دیکھا کہ ’’بے شک اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ اور ’’میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل رائیگاں جانے نہیں دوں گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت‘‘ اور یہ بھی کہ ’’اور ہم پر اہل ایمان کی مدد لازم ہے‘‘۔

    ترکی کتنا بدلا؟ صنعت و حرفت نے کیسی ترقی کی؟ سیکولر نظام کے نتیجے میں ترکی کے حصے میں جو زوال آیا‘ کس قدر محنت اور مشقت کے بعد اسے عروج سے بدلا گیا؟ یہ سب ایک تفصیلی مضمون کا موضوع ہے، یہاں تو بس اتنا عرض کرنا ہے کہ مسلسل محنت، پُرخلوص جذبہ، دیانت و امانت اور اسلام کے صحیح اور سچے اصولوں کی پاسداری نے ترکی کو ایسی اور اتنی جلابخشی کہ وہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے دوش بدوش کھڑا ہو گیا اور ایک مرتبہ پھر عالم اسلامی کے لیے امیدوں کا مرکز اور تمنائوں کا محور بن گیا۔ اور اس کے صدر حافظ رجب طیب اردوان کو عالم اسلام کے مسلمان ترکی کے صدر نہیں‘ عالم اسلام کے قائد و رہنما کے روپ میں دیکھنے لگے۔ چند دن پہلے اسی مرد غیور نے ترکی کے عدالتی فیصلے کے بعد جب یہ اعلان کیا کہ آیا صوفیہ اب میوزم نہیں مسجد ہے‘ یہاں پنج وقتہ نمازیں ادا کی جائیں گی تو عالم کفر پر سکتہ طاری ہوگیا۔ یہ اعلان نہیں تھا‘ برق آسمانی تھی جس نے خرمن کفر میں آگ لگا دی۔ آزاد خیال طبقہ جسے آج کی زبان میں لبرلزکہا جاتا ہے‘ ایسا بے قرار ہوا جیسے سانپ کی دم پر پیر پڑنے سے سانپ بے قرار ہو جاتا ہے۔ انسانیت کی گردانیں پڑھی جانے لگیں، اسلام کے قانون عدل کے حوالے دیے گئے، میزانِ عقل و خرد پر تول کر اس اقدام کوغلط، غیر مہذب اور وحشیانہ قرار دیاگیا، لیکن سلام ہو مرد غیور و جسور پر‘ کہ اس کی بلند و بالا جبیں پر نہ تو کوئی شکن آئی اور نہ اس کے ارادے میں کوئی کمزوری، اور جب کچھ ممالک کی طرف سے کھلے یا چھپے اس پر تنقید کی گئی تو اس نے ایسا جرأتمندانہ جواب دیا جو تاریخ عالم میں آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ ’’ہمارے فیصلے کے بعد یونان آرام سے بیٹھ نہیں پا رہا ہے، وہ اپنی کمیں گاہ سے نکل کر ہم پر گولیاں برسا رہا ہے، ہمارا ان سے یہ کہنا ہے کہ ترکی کو تم چلارہے ہو یا ہم؟ ہمیں کوئی فیصلہ لینے کے لیے کسی سے اجاز ت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے فیصلے لینے کے لیے آزاد اور خود مختار ہیں، تم اپنے آپ کو تھوڑا بہتر بنائو، اپنی حدوں کو پہچانو اگر تم اپنی حدوں کو نہیں پہچانو گے تو ترکی جو کرے گا وہ بالکل واضح ہے‘‘۔ یہ وہ دو ٹوک اور جرأتمندانہ جواب ہے جس نے احساس دلا دیا کہ اب ترکی ’’مردِ بیمار‘‘ نہیں رہا، طاقتور اور توانا بن چکا ہے۔

    آیا صوفیہ میں جمعہ کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں، پھر تلاوت قرآن کا سلسلہ جاری ہوا، آیا صوفیہ میں پاک پروردگار کا باعظمت اور پُرشکوہ کلام گونجنے لگا، قاری کی آواز میں بڑا سوز و درد تھا، اور اس سے بڑھ کر کلام الٰہی کی تاثیر، آنکھیں چھلک پڑیں، دل احساسِ شکر سے لبریز ہوگیا، پاک پروردگار! تو نے ہماری زندگی میں یہ وقت بھی دکھایا کہ غیرت مند مسلمان آزاد خیالوں اور مغرب کے ترجمانوں پر غالب آئے۔ ’’حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹ جانے ہی کے لئے ہے‘‘۔

    قاری کی تلاوت جاری تھی اور میرا ذہن ماضی کے جھروکوں میں جھانک رہا تھا۔ کئی صدیاں پہلے ایک عظیم فاتح نے جو محض چوبیس برس کا تھا اور جسے سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھے ہوئے دو سال ہی گزرے تھے، اپنے عزم و عزیمت اور جذبہ شجاعت کے زور پر قسطنطنیہ (اب استنبول) کو فتح کرتا ہے اور اس بشارت نبویؐ کا مصداق بنتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ قسطنطنیہ فتح ہوگا اور اس کو فتح کرنے والا لشکر بہترین لشکر ہوگا اور اس لشکر کا امیر بہترین امیر ہوگا۔ فتح کے بعد فاتحین کی روش کے برخلاف یہ بہادر اور شیر دل انسان اعلان کرتا ہے کہ میرے لشکر کے لوگو! تم بشارت نبویؐ کے مصداق بن چکے ہو، نرم دلی اختیار کرو اور قتل و غارت گری سے بچو، عام شہریوں میں سے نہ تو کسی کو قتل کرو اور نہ کسی کی مذہبی عبادت گاہ کو نقصان پہنچائو۔ سلطان محمد فاتح نے سب کو امان دی اور یہ اعلان بھی کہ ہر ایک اپنے مذہب پر عمل کے لئے آزاد ہے۔ کیسا انصاف ہے یہ! کیسی رحمدلی اور مروت ہے یہ

    شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
    یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے

    (آیاصوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے متعلق لکھی گئی ایک تاثراتی تحریر)

    (بشکریہ: سیاست انڈیا)[/CENTER]

    Reply
  19. Danish Arain on 31 July, 2020 7:43 am

    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    ماشاءاللہ
    بہت عمدہ

    Reply
  20. intelligent086 on 1 August, 2020 1:06 am

    [QUOTE=”Danish Arain, post: 503400, member: 50142″]
    [USER=32637]@intelligent086[/USER]
    ماشاءاللہ
    بہت عمدہ
    [/QUOTE]
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

    Reply
  21. Danish Arain on 1 August, 2020 7:44 pm

    [QUOTE=”intelligent086, post: 503439, member: 32637″]
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    [/QUOTE]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا

    Reply
  22. intelligent086 on 2 August, 2020 12:20 am

    [QUOTE=”Danish Arain, post: 503472, member: 50142″]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
    [/QUOTE]
    ماشاءاللہ
    🙂

    Reply
  23. Maria-Noor on 2 August, 2020 9:28 pm

    [QUOTE=”Danish Arain, post: 503030, member: 50142″]
    مجھے سیر و سفر کی غرض سے دنیا کے بہت سے ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے مگر ترکی پہنچ کر میں جتنا ”ایٹ ہوم‘‘ محسوس کرتا ہوں دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں کرتا۔ کئی برس پہلے جب میں پہلی مرتبہ ترکی ”سیاحت و صحافت‘‘ کے لیے بیگم کے ساتھ گیا تو ہم نے آٹھ دس روز ترکوں کی مہمان نوازی کا لطف بھی اٹھایا اور کرائے کی گاڑی کو خود ڈرائیو کر کے صرف استنبول ہی نہیں‘ انقرہ تک کی سیاحت بھی کی۔ تب استنبول میں دو تین روز گزار کر ہمارا پہلا تاثر بہت دلچسپ تھا جسے میں نے اپنے سفرنامے ”کنارے کنارے‘‘ میں لکھا تھا۔ استنبول فی الواقع مشرق و مغرب کا سنگم ہے۔ یہاں اکل مشرقی اور شرب مغربی ہے‘ آواز مشرقی اور ساز مغربی ہے‘ اطوار مشرقی اور انداز مغربی ہے‘ چال مشرقی اور ڈھال مغربی ہے‘ زبان مشرقی اور لہجہ مغربی ہے اور سکارف مشرقی اور لباس مغربی ہے۔ غرضیکہ یہاں قدم قدم پر مشرق و مغرب گلے ملتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
    اس وقت آیا صوفیہ کو بچشم ِخود دیکھ کر جو میرا احساس تھا اسے میں نے اپنی ڈائری میں یوں قلم بند کیا تھا – مسجد سلطان احمد کے عین سامنے ”آیا صوفیہ‘‘ ہے۔ یہ ایک عظیم عمارت ہے۔ ایسی بارعب عمارت کہ جسے دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ اس عمارت کو بعض مصنفین و مورخین نے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں یہاں بازنطینی عیسائی حکمرانوں نے کلیسا تعمیر کیا تھا۔ یہ کلیسا معبد کم اور بازنطینی سلطنت کا مرکز زیادہ سمجھا جاتا تھا۔ کلیسا کو سلطان محمد فاتح نے ترمیم و اضافہ کر کے 1453 میں فتح استنبول کی یاد میں مسجد بنا دیا۔ اس مسجد سے تقریباً پانچ صدیوں تک دن میں پانچ مرتبہ اذان بلند ہوتی رہی۔ 16ویں صدی عیسوی میں ایک ترک ماہرِ تعمیرات سنان اعظم نے مسجد میں تزئین و تجمیل کا کام نہایت عمدگی سے انجام دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید ترکی کے بانی اتاترک نے 1934 میں مسجد کو میوزیم میں تبدیل کر دیا اور یہاں ربِّ ذوالجلال کے حضور جبینِ نیاز جھکانے پر پابندی عائد کر دی۔ جب پندرہ بیس برس قبل ہم آیا صوفیہ گئے تو ایک طرف اللہ‘ رسولؐ‘ چاروں خلفاؓء اور امام حسنؓ و امام حسینؓ کے نام دیواروں پر نظر آتے تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ ٹائیلوں سے بنی ہوئی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی تصویریں اور مجسمے دکھائی دیئے تھے۔ ہم اس وقت کوئی بہت زیادہ دقیق تحقیق نہیں کر سکے تاہم سرسری مطالعے سے جو معلومات حاصل ہوئیں اُن کے مطابق 1924 میں برسراقتدار آکر کمال اتاترک نے 1930 میں مسجد کو مقفل کرا دیا اور اس دوران نہایت کوشش کے ساتھ مسیحی تصاویر اور آثار کو نمایاں کروایا گیا جو پلستر اور پینٹ کے نیچے چھپ گئے تھے۔
    اب 86 برس کے بعد 10 جولائی بروز جمعتہ المبارک ایک ترک عدالت کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسی روز میوزیم کے ٹائٹل کو بدل کر اسے ایک بار پھر مسجد میں بدل دینے کے صدارتی احکامات جاری کر دیئے ۔ اس اعلان پر ترکوں کی اکثریت نے سجدئہ شکر بھی ادا کیا اور علی الاعلان ترکی میں جشن بھی منایا۔ اسی طرح اکثر اسلامی ممالک میں بھی مسجد کی واپسی پر مسرت و بہجت کا اظہار کیا گیا ہے۔ جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے تو وہاں کے کئی اداروں اور شخصیات کی طرف سے اس عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وہاں کے چرچ لیڈرز نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیسکو کے تحت ایک میوزیم کے عالمی ورثے کی مسجد میں تبدیلی بالکل مناسب نہیں۔ امریکی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مقام بازنطینی عیسائیوں اور سلطنت عثمانیہ کا یادگار ورثہ ہے۔ دنیا بھر سے ترکی آنے والے اکثر سیاح آیا صوفیہ ضرور وزٹ کرتے ہیں۔ گزشتہ روز ویٹی کن سٹی سے پوپ فرانسس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیا صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے سے انہیں بہت دکھ پہنچا ہے۔ پوپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ اپنا دکھ درد ترک حکمرانوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یونان آیا صوفیہ کا خود کو وارث سمجھتا ہے۔ یونان کے آرتھوڈکس چرچ کے آرچ بشپ اور یونانی کلچرل وزیر نے بھی اس فیصلہ پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے ”مہذب دنیا‘‘ کو طیش دلانے والا فیصلہ قرار دیا ہے۔ یونان کے وزیراعظم نے ترکی کے فیصلے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ترکی اور یونان کے تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ ترکی اور یورپین یونین‘ یونیسکو اور عالمی کمیونٹی کے درمیان بھی تعلقات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے اس لیے ترکی کو چاہئے کہ وہ میوزیم کو بحال رہنے دے۔ روس کے آرتھوڈکس چرچ نے بھی اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ تقریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے 30 کروڑ آرتھوڈکس عیسائیوں کے روحانی سربراہ بارتھالومیو نے کہا کہ مسیحی دنیا کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔
    اردگان نے واضح کیا کہ ہم اپنی خودمختاری پر کسی طرح کا کمپرومائز کرنے پر تیار نہیں۔ اردگان نے کہا کہ جو اپنے ملکوں میں اسلاموفوبیا کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے وہ ترکی کو اس کی مذہبی خودمختاری سے محروم کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
    مجھے اس معاملے کی شرعی و فقہی حیثیت کا مکمل ادراک نہیں تاہم میں نے بعض علمائے کرام کی آراء معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ترک عدالت کے سامنے سوال صرف اتنا تھا کہ کیا کمال اتاترک کو ملکیت رکھنے والی ایک آباد مسجد کو میوزیم میں بدل دینے کا اختیار تھا یا نہیں؟ عدالت نے کئی سال کی تحقیق و تفتیش کے بعد یہ فیصلہ دیا ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا ہرگز اختیار نہیں تھا اس لیے میوزیم سے مسجد واگزار کرائی جائے۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے کہ 900 برس تک استنبول میں قائم رہنے والے کلیسا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا حق سلطان محمد فاتح کو حاصل تھا یا نہیں۔ کتب فقہ میں موجود مفصل بحثوں کا خلاصہ میں یہ سمجھا ہوں کہ فتح ہونے والے علاقوں میں اسلامی ریاست پر صلح کے ذریعے طے شدہ شرائط کی پابندی لازم ہوتی ہے جیسے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب کے دورِ خلافت میں صلح سے فتح ہونے والے بیت المقدس میں مسیحیوں کے مقاماتِ مقدسہ کو برقرار رکھا گیا۔ بزورِ قوت فتح ہونے والے ممالک کے بارے میں فقہا کی ملی جلی آراء ہیں۔ بعض کے نزدیک مفتوح قوم کی تمام عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رکھا جائے اور بعض کے خیال میں مسلمان فاتح کو اُن پر تصرف کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ بعض علماء کی رائے میں بزورِ شمشیر فتح ہونے والے ممالک میں مفتوح قوم کی عبادت گاہوں کا برقرار رکھا جانا تالیف قلب کے طور پر افضل ہے۔ جیسا کہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے اہلِ خیبر کے ساتھ معاملہ کیا تھا اور خلفائے راشدین نے اپنے مفتوحہ ممالک میں کیا تھا۔
    دیکھنا یہ ہے کہ کیا مسجد آیا صوفیہ کی تقریباً پانچ سو سالہ تاریخ میں عیسائیوں نے سلطنت ِعثمانیہ کی کسی عدالت سے اپنا کلیسا واگزار کرانے کی درخواست کی تھی یا نہیں۔ اگر آج 1500 برس کے بعد ترکی کی عدالت میں کلیسا کی واپسی کے لیے درخواست دائر کی جاتی ہے تو اس کا فیصلہ کیا ہو گا؟ جناب طیب اردگان سے یہ بیان بھی منسوب ہے کہ انہوں نے کہا کہ پندرہ سو سال پرانا آیا صوفیہ مسلمانوں‘ عیسائیوں اور ٹورسٹوں کے لیے کھلا رہے گا۔ اسلام کی عالی ظرفی اور تالیف قلبی سے کام لیتے ہوئے اگر طیب اردگان آیا صوفیہ کا ایک حصہ عیسائیوں کی عبادت گاہ کے طور پر مختص کر دیں تو اس سے ایک تو عالمی شوروغوغا اور تنقید کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ نیز غیرمسلم ممالک میں مساجد اور اسلامی مراکز اور اس سے بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی تقویت ملے گی۔ اور مسلمان مغربی دنیا میں ہر طرح کے معاندانہ رویے سے محفوظ رہیں گے۔
    بشکریہ
    آیہ صوفیہ : میوزیم سے مسجد تک
    ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
    [/QUOTE]
    ڈاکٹر بابو شکرن

    Reply
  24. Maria-Noor on 2 August, 2020 9:30 pm

    [QUOTE=”intelligent086, post: 503396, member: 32637″]
    [CENTER]یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

    محمد عمرین محفوظ رحمانی

    مشرق و مغرب اور شمال وجنوب میں مسائل سے گھری ہوئی اور پریشانیوں اورکلفتوں سے ڈھکی ہوئی ملت اسلامیہ کے لیے 24 جولائی کی تاریخ اور جمعہ کا دن پیامِ مسرت لے کر آیا۔ مسجد آیا صوفیہ میں86 برس کے بعد پہلا جمعہ لاکھوں افراد کی موجودگی میں ادا کیا گیا۔ سورہ فتح کی پُراثر، بامعنی اور روح پرور آیات کے جلو میں ترک قوم نے اللہ پاک کی کبریائی اور عظمت بیان کی اور سپر پاور طاقتوں سمیت دنیا کے تمام ملکوں اور قوموں کو یہ پیغام دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں‘ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور یہ کہ غلبہ تو بس اللہ‘ اس کے پیغمبر اور اہل ایمان کے لیے ہے۔جمعہ کی نماز مسجد آیا صوفیہ میں ادا کی جا رہی تھی لیکن ساری دنیا کے مسلمان ان روح پرور مناظر کو موبائل یا کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھ کر دنیا کے کونے کونے میں مسرورہو رہے تھے۔ آیا صوفیہ جو کسی زمانے میں چرچ تھا‘ کو 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد مسجد میں تبدیل کر دیا۔ پھر منظر بدلا، غیروں کی دشمنی اور اپنوں کی بے وفائی نے تین براعظموں پر پھیلی سلطنت عثمانیہ کا تخت پلٹ دیا اور 24 جولائی 1923ء کو معاہدۂ لوزان کے تحت ترکی کوخلافت عثمانیہ کے مرکز سے بدل کر جمہوریہ ترکی بنا دیا گیا اور ایسے لوگ اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے یا بٹھا دیے گئے جن کے ضمیر و خمیر میں آزاد خیالی بھری ہوئی تھی۔ اس تبدیلی نے پورے ملک کا نقشہ بدل دیا، اسی دور میں آیا صوفیہ کی مسجدیت کو ختم کیا گیا اور اسے میوزیم کی شکل دے دی گئی۔ دن گزرتے گئے، سال بیتتے گئے اور آیا صوفیہ کے در و دیوار سجدوں کے لیے ترستے رہے۔

    وہاں کی فضائیں حسنِ منظر کے باوجود اداس رہیں کہ نہ اذان کی گونج تھی اور نہ بے خودی کے قیام و قعود، رکوع و سجود۔ پھر اللہ کی رحمت جوش میں آئی جس کی شان مردہ زمین کو بارش کے ذریعے زندگی بخشنا اور مرجھائے ہوئے پودوں کو تازگی عطاکرنا ہے، وہی ترکی جہاں مذہب کو اس کی بنیادوں سمیت اکھاڑ پھینکنے کی محنت زور و شور کے ساتھ کی گئی تھی، اسلام کی طرف لوٹنے لگا۔ آزاد خیالی اور لبرلزم کے ملمع شدہ چہرے سے آب و رنگ اترنے لگا، لوگوں نے محسوس کیا کہ جسے وہ محبوب دل نواز اور بت طنّاز خیال کیے ہوئے تھے اور اس کاحسن و جمال اصلی نہیں جعلی ہے۔

    درد مندانِ ملّت کی زیر زمین محنت، اللہ اللہ کرنے والوں کے گرم آنسو اورگریۂ شبانہ نے ترکی کے تخت اقتدار تک ان لوگوں کو پہنچایا جو سوز دروں اور جذب اندروں کے حامل تھے، جن میں چیتے کا جگر اور شاہین کی بلند پروازی تھی، جن کی آنکھوں میں حیا کا سرمایہ، دل میں غیرت کا خزانہ اور لبوں پر عظمت دین کا ترانہ تھا، یہ لوگ بڑھے تو بڑھتے چلے گئے، انصاف نے انہیں اوپر اٹھایا، علم نے انہیں عظمت بخشی، روحانیت نے ان کے قدم جمائے، غیرت نے انہیں سہارا دیا، اور سب سے بڑھ کر مالک و مختارِ کُل نے انہیں حسن نیت اور حسن عمل کی جزا نصیب کی اور دنیا نے ایک مرتبہ پھراس ازلی و ابدی قانونِ قدرت کو چشم سر سے دیکھا کہ ’’بے شک اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘ اور ’’میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل رائیگاں جانے نہیں دوں گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت‘‘ اور یہ بھی کہ ’’اور ہم پر اہل ایمان کی مدد لازم ہے‘‘۔

    ترکی کتنا بدلا؟ صنعت و حرفت نے کیسی ترقی کی؟ سیکولر نظام کے نتیجے میں ترکی کے حصے میں جو زوال آیا‘ کس قدر محنت اور مشقت کے بعد اسے عروج سے بدلا گیا؟ یہ سب ایک تفصیلی مضمون کا موضوع ہے، یہاں تو بس اتنا عرض کرنا ہے کہ مسلسل محنت، پُرخلوص جذبہ، دیانت و امانت اور اسلام کے صحیح اور سچے اصولوں کی پاسداری نے ترکی کو ایسی اور اتنی جلابخشی کہ وہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے دوش بدوش کھڑا ہو گیا اور ایک مرتبہ پھر عالم اسلامی کے لیے امیدوں کا مرکز اور تمنائوں کا محور بن گیا۔ اور اس کے صدر حافظ رجب طیب اردوان کو عالم اسلام کے مسلمان ترکی کے صدر نہیں‘ عالم اسلام کے قائد و رہنما کے روپ میں دیکھنے لگے۔ چند دن پہلے اسی مرد غیور نے ترکی کے عدالتی فیصلے کے بعد جب یہ اعلان کیا کہ آیا صوفیہ اب میوزم نہیں مسجد ہے‘ یہاں پنج وقتہ نمازیں ادا کی جائیں گی تو عالم کفر پر سکتہ طاری ہوگیا۔ یہ اعلان نہیں تھا‘ برق آسمانی تھی جس نے خرمن کفر میں آگ لگا دی۔ آزاد خیال طبقہ جسے آج کی زبان میں لبرلزکہا جاتا ہے‘ ایسا بے قرار ہوا جیسے سانپ کی دم پر پیر پڑنے سے سانپ بے قرار ہو جاتا ہے۔ انسانیت کی گردانیں پڑھی جانے لگیں، اسلام کے قانون عدل کے حوالے دیے گئے، میزانِ عقل و خرد پر تول کر اس اقدام کوغلط، غیر مہذب اور وحشیانہ قرار دیاگیا، لیکن سلام ہو مرد غیور و جسور پر‘ کہ اس کی بلند و بالا جبیں پر نہ تو کوئی شکن آئی اور نہ اس کے ارادے میں کوئی کمزوری، اور جب کچھ ممالک کی طرف سے کھلے یا چھپے اس پر تنقید کی گئی تو اس نے ایسا جرأتمندانہ جواب دیا جو تاریخ عالم میں آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ ’’ہمارے فیصلے کے بعد یونان آرام سے بیٹھ نہیں پا رہا ہے، وہ اپنی کمیں گاہ سے نکل کر ہم پر گولیاں برسا رہا ہے، ہمارا ان سے یہ کہنا ہے کہ ترکی کو تم چلارہے ہو یا ہم؟ ہمیں کوئی فیصلہ لینے کے لیے کسی سے اجاز ت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے فیصلے لینے کے لیے آزاد اور خود مختار ہیں، تم اپنے آپ کو تھوڑا بہتر بنائو، اپنی حدوں کو پہچانو اگر تم اپنی حدوں کو نہیں پہچانو گے تو ترکی جو کرے گا وہ بالکل واضح ہے‘‘۔ یہ وہ دو ٹوک اور جرأتمندانہ جواب ہے جس نے احساس دلا دیا کہ اب ترکی ’’مردِ بیمار‘‘ نہیں رہا، طاقتور اور توانا بن چکا ہے۔

    آیا صوفیہ میں جمعہ کی نماز کی تیاریاں ہو رہی تھیں، پھر تلاوت قرآن کا سلسلہ جاری ہوا، آیا صوفیہ میں پاک پروردگار کا باعظمت اور پُرشکوہ کلام گونجنے لگا، قاری کی آواز میں بڑا سوز و درد تھا، اور اس سے بڑھ کر کلام الٰہی کی تاثیر، آنکھیں چھلک پڑیں، دل احساسِ شکر سے لبریز ہوگیا، پاک پروردگار! تو نے ہماری زندگی میں یہ وقت بھی دکھایا کہ غیرت مند مسلمان آزاد خیالوں اور مغرب کے ترجمانوں پر غالب آئے۔ ’’حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹ جانے ہی کے لئے ہے‘‘۔

    قاری کی تلاوت جاری تھی اور میرا ذہن ماضی کے جھروکوں میں جھانک رہا تھا۔ کئی صدیاں پہلے ایک عظیم فاتح نے جو محض چوبیس برس کا تھا اور جسے سلطنت عثمانیہ کے تخت پر بیٹھے ہوئے دو سال ہی گزرے تھے، اپنے عزم و عزیمت اور جذبہ شجاعت کے زور پر قسطنطنیہ (اب استنبول) کو فتح کرتا ہے اور اس بشارت نبویؐ کا مصداق بنتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ قسطنطنیہ فتح ہوگا اور اس کو فتح کرنے والا لشکر بہترین لشکر ہوگا اور اس لشکر کا امیر بہترین امیر ہوگا۔ فتح کے بعد فاتحین کی روش کے برخلاف یہ بہادر اور شیر دل انسان اعلان کرتا ہے کہ میرے لشکر کے لوگو! تم بشارت نبویؐ کے مصداق بن چکے ہو، نرم دلی اختیار کرو اور قتل و غارت گری سے بچو، عام شہریوں میں سے نہ تو کسی کو قتل کرو اور نہ کسی کی مذہبی عبادت گاہ کو نقصان پہنچائو۔ سلطان محمد فاتح نے سب کو امان دی اور یہ اعلان بھی کہ ہر ایک اپنے مذہب پر عمل کے لئے آزاد ہے۔ کیسا انصاف ہے یہ! کیسی رحمدلی اور مروت ہے یہ

    شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
    یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے

    (آیاصوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے متعلق لکھی گئی ایک تاثراتی تحریر)

    (بشکریہ: سیاست انڈیا)[/CENTER]
    [/QUOTE]
    بہت عمدہ معلومات

    Reply
  25. intelligent086 on 3 August, 2020 3:34 am

    [QUOTE=”Maria-Noor, post: 503595, member: 49959″]
    بہت عمدہ معلومات
    [/QUOTE]
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

    Reply
  26. Maria-Noor on 3 August, 2020 8:46 am

    [QUOTE=”intelligent086, post: 503613, member: 32637″]
    پسند اور رائے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
    [/QUOTE]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا

    Reply
  27. intelligent086 on 4 August, 2020 1:25 am

    [QUOTE=”Maria-Noor, post: 503669, member: 49959″]
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا
    [/QUOTE]
    ماشاءاللہ
    🙂

    Reply
  28. Falak on 24 September, 2020 4:08 pm

    Mashallah beautiful sharing….i have visited…Hagia Sophia is not only renowned for its magnificent religious architecture but also for its superb exquisite Byzantine mosaics and fine examples of unique Ottoman calligraphy. Jazakallah khair…

    Reply
  29. intelligent086 on 29 September, 2020 2:32 am

    [QUOTE=”Falak, post: 506708, member: 2419″]
    Mashallah beautiful sharing….i have visited…Hagia Sophia is not only renowned for its magnificent religious architecture but also for its superb exquisite Byzantine mosaics and fine examples of unique Ottoman calligraphy. Jazakallah khair…
    [/QUOTE]
    ماشاءاللہ
    وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا

    Reply

Leave A Reply Cancel Reply

China Unveils World's First 6G Chip, Beats US & Europe

China Unveils World’s First 6G Chip, Beats US & Europe

What is a Cusec? Understanding Pakistan's Flood Waters

What is a Cusec? Understanding Pakistan’s Flood Waters

Good News: Electricity Price Reduction Expected Soon

Good News: Electricity Price Reduction Expected Soon

Maryam Nawaz Surveys Ravi River Flood Situation by Boat

Maryam Nawaz Surveys Ravi River Flood Situation by Boat

Trivia Quizzes
Muharram Quiz 2020 Trivia Quizzes

Muharram Quiz #1 – Test Your Knowledge

6Updated:31 August, 20201 Min Read
Eid Ul Adha Quiz

Eid ul Adha Quiz #1 – Test Your Knowledge

Hajj Quiz The Pilgrimage

Hajj Quiz: The Pilgrimage

Coronavirus Quizz Covid-19 Quiz Pakistan Web

Covid-19 Quiz: How much do you know about the coronavirus?

© 2005–2026 PakWeb
  • 🌐 About Us – PakWeb Digital Publishing Network
  • Privacy Policy
  • Contact us

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.